نئی دہلی،23اگست؍(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)ساتواں تنخواہ کمیشن قابل نفاذ ہو گیا ہے لیکن ہندوستانی ریلوے کے کئی افسران اب بھی اس بات کو لے کر کافی ناراض ہیں کہ ان کے مطالبات گزشتہ دو دہائی سے سنے نہیں جا رہے ہیں۔ریلوے کے حکام کا کہنا ہے کہ ریل کی وزارت کی طرف سے ان کے مطالبات قبول کئے جانے کے بعد بھی وزارت خزانہ نے ان کے مطالبات پر توجہ نہیں دی ہے۔ناراض پرموٹی آفیسرس ایسوسی ایشن نے اب مل کر اپنی لڑائی کو آگے لے جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ریلوے پرموٹی آفیسرس ایسوسی ایشن کے سیکریٹری رمن شرما نے بات چیت میں بتایا ہے کہ سکندرآباد میں 8-9ستمبر کو سنگھ کی مجلس عاملہ کی میٹنگ ہوگی۔اس میٹنگ میں آگے کی حکمت عملی کے بارے میں فیصلہ لیا جائے گا۔اپنے مطالبات کے سلسلے میں رمن شرما نے بتایا کہ ریلوے کے پرموٹی حکام کی طویل مانگ رہی ہے کہ گروپ بی کے آٹھوں ڈپارٹمنٹ کے حکام کی تنخواہ پہلے یکساں رہا کرتی تھی لیکن پانچویں تنخواہ کمیشن میں اکاؤنٹ محکمہ کے حکام کی تنخواہ زیادہ کر دی گئی جبکہ باقی تمام ساتوں محکموں کے حکام کی بنیادی تنخواہ کم رکھی گئی،تبھی سے سنگھ نے مسلسل چھٹے تنخواہ کمیشن کے وقت بھی یہی مطالبہ کیا تھا کہ اسے برابر کر دیا جائے لیکن پھر بھی یہ مطالبہ نہیں ماناگیا۔یونین کا کہنا ہے کہ اکاؤنٹ محکمہ کے اہلکار میز پر بیٹھ کر ہی کام کرتے ہیں جبکہ ریلوے کے باقی محکمہ کے افسران کو میدان پر جاکر کام کرنا ہوتا ہے۔ان سب کے باوجود اکاؤنٹ محکمہ کے حکام کو زیادہ تنخواہ دی جا رہی ہے۔یونین کا دعوی ہے کہ ان کے افسران کی مانگ کو ریلوے نے مثبت طور پر سنا اور مطالبہ کی حمایت کرتے ہوئے وزارت خزانہ کو اپنی منظوری بھی بھیج دی لیکن اس مطالبے پر ا بھی کوئی فیصلہ نہیں لیا گیا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ ریلوے کی وزارت نے یہ بھی بتایا تھا کہ اسے لاگو کرنے میں محض 1.5کروڑ روپے کا خرچ آتا لیکن حکومت نے افسران کے اتنی طویل عرصے سے جاری مطالبے پر کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا ہے۔انہوں نے کہا کہ ساتویں تنخواہ کمیشن نے اس سلسلے میں تمام حکام کو چار سال میں اگلی گریڈ کی پہ دینے کے لئے کہا ہے، لیکن اب بھی اس پر نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا ہے اور حکام میں کشمکش کی حالت برقرار ہے۔